Wednesday, 8 July 2015

Whatever You Caught You Got, Whatever you Left you Lost, EspeciallyTime ,...... جو تھام لیا تو سب پا لیا، جو چھوڑ دیا تو سب کھودیا

وقت کبھی ٹہرتا نہیں، کہیں رُکتا نہیں، کسی کا انتظار وہ کرتا نہیں۔ لمحے منٹوں میں، منٹ گھنٹوں میں، گھنٹے دنوں اور دن مہینوں اور مہینے سالوں میں اس طرح  تبدیل ہوتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
وقت کے گزرنے کی کیفیت کو ہم اپنے حالات اور واقعات اور اپنی زندگی کے پیرائے میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب ہمیں کسی کا انتظار ہو تو وقت کاٹے نہیں کٹتا لیکن مقررہ وقت پر کام مکمل کرنا ہو تو تیزی سے نکلا چلا جاتا ہے۔ ہم اپنی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کی ذمّہ داری بھی وقت پر ڈال دیتے ہیں اور اس کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہوتے ہیں اُنہیں یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ ہماری کامیابی میں ہماری محنت، توجّہ، مستقل مزاجی اور لگن بھی شامل ہے جبکہ ناکامی میں ہماری کوتاہی، کم ہمتی اور خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہیں۔
ہر کام اپنے وقت پر اچھا لگتا ہے:
کچھ کام وقت رہتے ہی کر لئے جائے تو بہتر ہے ورنہ اُن کی اہمیت باقی نہیں رہتی جیسے کسی اپنے کی خوشی میں وقت پر شریک ہونا، یا کسی کی تکلیف میں اُس کا ساتھ دینا وغیرہ۔ ایسے خاص اوقات میں ہم اگر اپنی مصروفیت کے باعث شریک نہ ہوسکے تو یہ ہماری زندگی کی بڑی غلطی ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی اپنا روٹھ جائے یا ناراض ہوجائے تو اپنا محاسبہ کرنے میں اتنا وقت نہ صرف کردیں کہ پھر معذرت کا موقع ہی ہاتھ سے نکل جائے اور ہماری زندگی اُن پرخلوص دوستوں اور رشتوں سے خالی ہوجائے۔
وقت ہر درد کا مرہم ہے:
کوئی بھی زخم کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو وقت کا بہاؤ اسے بہالے جاتا ہے۔ لیکن کچھ زخم ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت کے دھارے میں بہہ کر بہل تو جاتے ہیں اور وقت کا مرہم کچھ دیر کو تو انہیں خشک کر دیتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ اُس پر وقت کی کھڑند جم جاتی ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سخت ہوجاتی ہے۔ پھر جب اسی بے رحم وقت کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہم ایسے زخموں کو کھرچے لگتے ہیں تو اُن سے دوبارہ لہو رسنے لگتا ہے اور وہ زخم ہمارے دل کا ناسور بن جاتے ہیں۔
گیا وقت کبھی واپس لوٹ کر نہیں آتا:
گیا وقت کبھی واپس لوٹ کر نہیں آتا، گزرا کل صرف یاد بن کر رہ جاتا ہے اور اگر یادیں حسیں ہو تو آنے والا ہر لمحہ روشن اورخوشگوار ہوتا ہے۔ اگر یادوں میں صرف درد ہو تو آنے والا ہر لمحہ آنسو بن جاتا ہے۔ پھر چاہے لمحہء موجود میں ہم خوشی سے ہمکنار ہی کیوں نہ ہوں۔ ماضی ہمارے حواسوں پر چھایا رہتا ہے اور جینا مشکل کر دیتا ہے۔ ہمارے پاس جو آج ہے وہ کل نہیں رہے گا یہاں تک کہ ہمارے رشتے بھی۔ زندگی کے کسی لمحے کی کوئی خبر نہیں ہم خود بھی آج ہے اور شائد کل نہ ہو۔ پیچھے جو رہتا ہے وہ یادوں کی صورت رہتا ہے۔ ہم کتنی ہی کوشش کرلیں گزرا وقت واپس نہیں آتا ہے۔
جو کچھ ہے لمحہ موجود میں پوشیدہ ہے:
وقت واقعات کا ایک تسلسل ہے جو ماضی سے حال اور پھر مستقبل کی جانب رواں رہتا ہے۔ گیا وقت کبھی واپس لوٹ کر نہیں آتا ہے اور آنے والا وقت کیسا ہوگا اس کی ہمیں کچھ خبر نہیں۔ اس سے صرف ربِ کریم کی ذات واقف ہے۔ ہم اپنے لئے کچھ بھی سوچ لیں، کچھ بھی منصوبہ بنالیں لیکن ہونا وہی ہے جو رب کی مرضی اور منشاء ہوگی۔ دن، مہینے اور سال یونہی گزرتے جائیں گے فقط لمحہ موجود ہی ہمارے اختیار میں ہے۔ اپنے آج کو محسوس کریں اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہو کر ان قیمتی لمحات کو اتنا خوبصورت بنائیں کہ آنے والے کل میں وہ آپ کا حسین سہارا بنے یا آپ کے بعد آپ کے اپنوں کو سہارا دے سکے۔ یادیں ہی ہمارا قیمتی سرمایہ ہے جو کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا ہے لیکن ان یادوں کو خوبصورت بنانے کے لئے آج کو اپنی گرفت میں لینا ضروری ہے، لمحہ موجود کو بھرپور انداز میں جینا ضروری ہے۔
جس طرح وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اسی طرح موت بھی کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ نہ جانے آنے والا کونسا لمحہ ہماری زندگی کا آخری لمحہ ہو تو کیوں نہ اس لمحے کو ہی اپنی گرفت میں رکھتے ہوئے آنے والی زندگی کے سفر کے لئے کچھ زادِ سفر حاصل کر لیا جائے اور اپنا مقصدِ حیات پا لیا جائے۔
جو کچھ ہے وہ اسی لمحہ موجود میں پوشیدہ ہے۔ جو تھام لیا تو سب کچھ پا لیا اور جو چھوڑ دیا تو سب کچھ کھودیا۔

Thursday, 2 July 2015

Deception Of Life.... فریبِ زندگی!

’میں نے کئی بار موت مانگی‘۔ میں نے اسے نظر اٹھا کر دیکھا، ’مگر اب میں جینا چاہتا ہوں۔!’ زندگی بہت آگے بڑھ چکی تھی، یہ وہ علی نہیں تھا جس کے ساتھ میرے کچے پکے ذہنی دور میں جگری یاری تھی۔ ہم ہمیشہ اسکول میں ساتھ بیٹھا کرتے تھے، ساتھ کھیلا کرتے تھے، ایک دوسرے کے بغیر لنچ تک نہیں کرتے تھے، اسکول میں اکثر لڑکے ہم پر آوازیں کستے تھے، ’ہیکل جیکل‘، ’یاجوج ماجوج‘، اور کبھی کوئی ایک چھٹی کرلیتا تو ٹیچر ہی پوچھ بیٹھتے، ’کدھر ہے تمہارا جوڑی دار‘؟
آج سرِ راہ وہ مجھے نظر آیا تو اسے قریبی ہوٹل پر بٹھالیا ۔۔۔ زندگی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ رواں دواں تھی۔ رات کے آٹھ بجے تھے اور اس وقت ہوٹل پر بہت رش ہوتا تھا۔ ہوٹل والے لڑکے نے آکر ہماری میز پر پڑا ایش ٹرے اٹھایا اور ساتھ گری راکھ صاف کی جو یقیناً ہم سے پہلے بیٹھنے والوں نے گرائی ہوگی۔ میں اس دوران بار بار علی کے چہرے اور اس کے حلیے کو دیکھتا تو دل کی پکار پھر کانوں میں سنائی دیتی کہ یہ وہ علی نہیں ہے جس کے ساتھ میرے ماضی کے اتنے سال جڑے ہیں۔ میں جس علی کو جانتا تھا وہ زندہ دل تھا، گھلنے ملنے والا، خوش رہنے اور رکھنے والا. میری والدہ جب اس سے ملتیں تو مجھے کہتیں، ’علی جتنے اچھے بنو!‘، اور میں دوست کی تعریف کو اپنی تعریف سمجھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتا تھا۔
اچانک علی کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، ’کہاں سوگیا بھائی اور تو کہاں تھا اتنا عرصہ‘؟ میں نے اسے پچھلے سات سال کے موٹے موٹے واقعات اور ملنے والے تمغوں کے بارے میں بتایا۔ وہ میری باتیں سنتے ہوئے دھیرے لب مسکراتا رہا جیسے اس کو پہلے ہی میرے بارے میں اندازہ ہو اور کیوں نہ ہو ہم نے بچپن میں جو خواب دیکھے تھے وہ ایک ساتھ دیکھے تھے۔ مگر اس کی مسکراہٹ میں عجیب بے چینی تھی۔ میں اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے قاصر تھا۔ بلکہ میں اس سے پوچھنے سے بھی قاصر تھا کہ تم نے پچھلے سات سال کیا کیا؟ ماحول میں پلیٹیں، چمچوں اور چائے کی پیالیوں کے بجنے کی آوازیں تھی اور ہر کچھ دیر میں مختلف آوازیں آتیں، ’چھوٹے دو دودھ پتی کڑک!‘، ’تازہ نان دینا خان صاحب!‘ ۔۔۔ کاؤنٹر پر ایک شخص اپنے پیسوں کے لیے الجھا ہوا تھا، لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میرا اس جگہ کئی دفعہ بیٹھنا ہوا مگر آج کچھ طبعیت بوجھل محسوس ہوئی۔ علی نے بھی شاید بھانپ لیا تھا کہ میں اس کی طرف متوجہ یا تو ہوں نہیں یا پھر جھجک رہاہوں۔
’تو پوچھے گا نہیں تیرا بھائی کہاں تھا اتنے سال‘؟ وہ شاید مجھے بتانا چاہتا ہو۔ میں نے ایک لمحے اسکی آنکھوں میں جھانکا اور مجھے خاموش دیکھ کر وہ پھر گویا ہوا۔ ’اچھا ہمت ہے تو سن‘! میں نے اشارے سے چھوٹے کو بلا کر دھیمے سے کہا دو چائے لے آؤ اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ ’یار میٹرک کے بعد تجھے پتا ہے جب بندہ کالج پہچتا ہے تو خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہ ہی ہوا۔ شروع میں جب کالج گیا تو کچھ لڑکوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھےغلط راستے پر ڈال دیا۔ جوانی کے جوش میں کئی غلطیاں کر ڈالیں۔ پھر بعد میں بلیک میلنگ شروع ہوگئی‘! وہ سانس لینے کے لیے رکا اور میں بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھنے لگا۔ مجھے لگا اسکی آنکھیں نم ہیں۔ ’پہلے بات صرف پڑھائی اور چھوٹے معاملات کی حد تک تھی۔ کسی کے نوٹس چھینے، کسی لڑکی کو چھیڑ دیا، کبھی کسی دوسری پارٹی کے بندے کی ’کُٹ‘ لگادی۔ پھر میری صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ایک دن مجھے دوسرے شہر میں نامعلوم جگہ پہچادیا گیا۔ وہاں مجھے گن چلانے کی ٹریننگ دی گئی۔ چوزوں کو بھگا کر مجھے کہا جاتا کہ ان کو پیروں تلے کچل دو۔ پھر بات انھیں گولیوں سے بھوننے تک پہنچ گئی، بس یوں سمجھ لے کہ مجھ میں سے انسانیت کو کھینچ کر نکال دیا گیا‘۔
چھوٹے نے چائے لاکر رکھی تو وہ بولتے بولتے رک گیا۔ مجھے اس سے گھن محسوس ہوئی ۔۔۔ میں نے چور نظروں سے اس کے چہرے پر دیکھا، لال بلب کی ہلکی روشنی میں اس کا آنسوں سے تر چہرہ عجیب رنگ بکھیر رہا تھا۔ میں نے چائے کی پیالی اس کے قریب کھسکا دی اور خود بے دلی سے چائے کی چسکیاں لینے لگا۔ ’ایک دفعہ برائی پر ہاتھ کھل جائے تو چسکا پڑجاتا ہے‘۔ اس نے چائے کی چسکی لی۔ ’ایک کے بعد ایک کئی معصوم لوگ میری نادانی اور بڑوں کے برے عزائم کے آگے خون ہوتے رہے اور پھر کام مکمل ہونے پر معصوم لڑکیاں میری ہوس کی بھینٹ تحفتاً چڑھادی جاتیں۔‘ مجھے اس سے خوف محسوس ہونے لگا مگر اس کی سرخ آنکھیں اس کی شرمندگی کی گواہی دے رہی تھیں۔ پھر بھی میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اُٹھ کر چلا جاؤں مگر اس کے لہجے اور انداز میں عجیب سا اتار چڑھاؤ تھا۔
میں نے اسے اس کے کہے گئے پہلے دو جملوں کے درمیا ن ہی پایا۔ یعنی ’زندگی اور موت‘ کے بالکل درمیان! ’ایک دفعہ میرے سامنے ایک ایسی لڑکی کو پہنچادیا گیا جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔‘ اس نے پھر اپنی کہانی شروع کردی یہ جانے بغیر کے میں اسے سن بھی رہا ہوں یا نہیں۔ ’میں اسے وہاں سے لیکر بھاگا۔ دنیا نے اُسے ویسے بھی قبول نہیں کرنا تھا۔ مسجد میں جاکر اس سے نکاح کیا اور چھپتا چھپاتا واپس اپنے شہر آگیا۔‘ اس نے اپنا گیلا چہرہ صاف کیا۔ مجھے اپنی اور اس لڑکی کے بابت بتانے لگا۔ میں نے دیکھا کبھی اس کے چہرے پر بچوں کی طرح خوشی اور چمک ہوتی اور کبھی اپنی غلطیوں پر گہرا دکھ۔ ہم دونوں کی پیالیاں خالی ہوچکی تھیں اور شاید اس کا غبار بھی نکل چکا تھا۔ اب وہ کچھ مطمئن تھا۔
’میں صبح کی فلائٹ سے ملک سے باہر جارہا ہوں اپنی پاک باز بیوی کے ساتھ ایک نئی زندگی بسر کرنے۔‘ اس آدھے گھنٹے میں پہلی دفعہ میں نے اس کے چہرے کو خوشی سے تمتماتا ہوا دیکھا۔ وہ شاید بہت مطمئن تھا، جانے کی تیاری پوری تھی اور جانے سے پہلے اپنے دل کا مکمل بوجھ اتارنا چاہتا تھا۔ میں سوچ رہا تھا یہ کہانی اس نے مجھے نہیں بلکہ اپنے سات سال پہلے کے دوست کو سنائی تھی لیکن اس کے لیے کہ میرے دل میں شاید اب وہ جذبات موجود نہیں تھے۔ بہرحال اس کے دل کا بوجھ اترچکا تھا۔ پھر وہ میری کسی بات کا انتظار کیے بغیر اُٹھا اور آہستہ سے ہوٹل سے باہر نکل نکلنے لگا۔ میں بھی بوجھل قدموں کے ساتھ اٹھا اور کاؤنٹر پر جا کر چائے کے پیسے دیے۔ اچانک فضا میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونجنے لگی۔ میں نے وہیں کھڑے ہوئے پلٹ کر علی کو اب کی بار موت سے ’زیادہ‘ قریب دیکھا۔!

Wednesday, 24 June 2015

My Mother ..... زمیں پر خدا کی محبت کا روپ ’’میری ماں‘‘

ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ ایک ایسا سمندر جسکی گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا انسانی عقل سے بالاتر ہے۔ ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔
ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کو مثال بناتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جسکی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔ ماں وہ ہے جسکو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔
’’جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں، اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوں یا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے جی بھر کے رو لیتی ہوں‘‘، یہ فرمان تھا حضرت رابعہ بصری کا۔ ماں وہ ہستی ہے جسکا نعم البدل نہیں، ماں ایک گھنے درخت کی مانند ہے جو مصائب کی تپتی تیز دھوپ میں اپنے تمام بچوں کو اپنی مامتا کے ٹھنڈے سائے تلے چھپا کے رکھتی ہے جیسے ایک مرغی مصیبت کے وقت اپنے تمام چوزوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے یہ سوچ کرکے اسے چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر اسکے بچے محفوظ رہیں۔ ایسی محبت صرف ایک ماں ہی دے سکتی ہے۔ ساری عمر بھی اس کے نام کی جائے تو بھی حق ادا نہ ہو، اسکی ایک رات کا بدلہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔
جہاں ماں کا ذکر آگیا سمجھ لینا چاہیے کہ ادب کا مقام آگیا۔ اللہ نے ماں کی ہستی کو یہ جان کر بنایا ہوگا کہ جب ایک ہارا ہوا انسان ناکامیوں کا سامنا کرکے تھک جائے تو ماں کی آغوش میں پناہ لے اور اپنے سارے رنج و الم، دُکھ اور غم ماں کو کہہ سنائے اور جب ماں پیار سے اسکی پیشانی چومے تو اس کی تمام پریشانیاں اور اندیشے ختم ہوجائیں۔ ماں اپنے اندر شفقت و رحمت کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے جیسے ہی اپنی اولاد کو پریشانی میں مبتلا دیکھتی ہے ماں کا دل تڑپ اٹھتا ہے اسکے اندر موجود محبت کے سمندر کی لہریں ٹھاٹھیں مارنے لگتی ہیں اور تمام دکھ بہا کر دور بہت دور لے جاتی ہیں جس سے اولاد میں نئے سرے سے جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔
بوعلی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلی مثال میں نے تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں ہیں۔ جب بچہ ماں کے پاس ہوتا ہے تو ہر غم اس سے دور ہوتا ہے۔ ماں خود بھوکا رہ لے گی مگر اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گی۔ سرد راتوں میں جب اسکا بچہ بستر گیلا کردیتا ہے وہ ساری رات خود تو گیلی جگہ پر سوجائے گی لیکن اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلائے گی۔ بچہ اگر گھر دیر سے پہنچے تو اسکی حالت ریت پر پڑی مچھلی کی مانند ہوجاتی ہے۔ ماں تو وہ ہستی ہے جسکا بچہ مرا ہوا بھی پیدا ہوجائے تو وہ اس غم سے باہر نہیں آپاتی۔ لیکن یہی بچہ ناجانے کب بڑا ہوجاتا ہے اسکی رگوں میں خون کی تیزی ماں کے دل کو عجب تقویت بخشتی ہے۔ پھر ایک دن آتا ہے جب اس بچے کو دنیا سے محبت ہوجاتی ہے اسے ماں کی روک ٹوک چبھنے لگتی ہے اور وہ ماں کی نصیحتوں سے بیزار آجاتا ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالی سے پوچھا کہ جنت میں میرے ساتھ کون ہوگا؟ ارشاد ہوا فلاں قصاب ہوگا۔ آپ کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔ وہاں دیکھا توایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا۔ اپنا کاروبار ختم کرکے اس نے گوشت کا ایک ٹکڑا کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اس قصائی کے گھر کے بارے میں مزید جاننے کیلئے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔ گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایا پھر روٹی پکا کر اس کے ٹکڑے شوربے میں نرم کئے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔
قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایا اور ایک لقمہ اس کے منہ میں دیتا رہا۔ جب اس نے کھانا تمام کیا تو بڑھیا کا منہ صاف کیا۔ بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لٹٓ کر باہر آگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام جو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرادیا؟ قصاب بولا ارے اجنبی! یہ عورت میری ماں ہے۔ گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں یہ روز خوش ہوکر مجھے دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں!
ماں سے محبت کے اظہار کیلئے کسی ایک دن کو مختص نہیں کیا جاسکتا۔ سال میں ایک دن منالینے سے بات نہیں بنتی بلکہ اسلام میں تو ہر دن ہر لمحہ مدرز ڈے ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں حیات ہیں۔ مگر افسوس مادیت ذدہ معاشرے نے خاندانی نظام کو بُری طرح متاثر کیا ہے جس سے والدین کی عزت رسمی ہوکر رہ گئی ہے۔ وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جت اور باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے الہی سے دامن چھڑاتا نظر آتا ہے۔ ماں باپ سے بدکلامی کرنے کو خدا نے سخت نا پسند کیا ہے یہاں تک کہ لفظ اف کو بھی خدا نے ماں باپ کی شان کے خلاف قراردیا ہے کیونکہ اس لفظ سے مزاج کے خراب ہونے کی بو آتی ہے۔

Wednesday, 10 June 2015

Easy Ways To Adopt Good Habits.....اچھی عادتیں اپنانے کے آسان طریقے

اچھی عادات اختیار کرنے سے صحت، روزگار اور بلکہ زندگی کے ہر پہلو پرمثبت اثر پڑتا ہے جب کہ ماہرین کے نزدیک اچھی عادات اس کے خوش طبیعت ہونے کی بھی نشانی ہے۔
اپنے معمولات میں اچھی عادات شامل کیجئے: اگرآپ رات دیرتک جاگتے ہیں لیکن صبح سویرے اُٹھ کر دوڑ لگانے کے خواہشمند ہیں تو یہ آپ کے لئے صبح سویرے اٹھنا انتہائی مشکل ہوگا تو اپنی روز مرہ زندگی میں صبح کی چہل قدمی جیسی اچھی عادت کو شامل کرنے کے لیے اس عادت کو رات سے ہی اپنانا شروع کریں جس کے لیے آپ شام کے اوقات میں چہل قدمی شروع کرکے رات کو وقت پر سو سکتے ہیں جس کے بعد آپ کے لیے صبح جلدی اٹھنا بھی مشکل نہیں ہوگا اور آپ اس طرح اپنے روز مرہ کے معمولات میں صبح کی چہل قدمی جیسی صحت مند عادت شامل کرسکتے ہیں۔
بری عادات کو اچھی عادات سے بدلیے: اگر آپ میٹھا کھانے کے شوق میں گرفتار ہیں اور اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو آئسکریم اور مٹھائیوں کو پھلوں اور ان کے رس سے بدل دیجئے اس طرح مٹھاس کی طلب بھی پوری ہوجائے گی اور اس کا کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح اپنی دیگر ضروریات پر بھی غور کیجئے کیونکہ طلب اور ضرورت سے ہی عادتیں فروغ پاتی ہیں اور ایسی اچھی عادتیں اپنائیے جو بری عادتوں کی جگہ لے سکیں۔
پہلے چھوٹے قدم اٹھائیے: بری عادات کو بدلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے مثبت قدم اُٹھایئے اگر آپ جوش میں آکر کہتے ہیں کہ میں کل صبح 5 بجے اُٹھوں گا تو شاید یہ ممکن نہ ہو لیکن صبح 7 بجے اُٹھنا شاید ممکن ہوگا۔ اس طرح ایک ایک قدم جماکر اٹھائیے اور بری عادات کو ختم کرتے رہیں اس کے بعد  ایک وقت آئے گا کہ طبیعت پر گراں ہوئے بغیر ہی بہترین عادات آپ میں جمع ہوتی جائیں گی۔
اچھی عادتوں میں اپنے گھر کی مدد حاصل کیجئے: آپ اپنے گھر میں بہت زیادہ اور بہت اہم وقت صرف کرتے ہیں اور ضروری ہے کہ اچھی عادات اپنانے کے لیے اپنے مکان یا فلیٹ میں بھی کچھ تبدیلیاں کی جائیں اس کے لیے کھڑکیوں کو اس طرح رکھیے کہ سورج کی روشنی صبح کو آپ کو بیدار کرے اور اس طرح آپ کا گھر آپ کی صبح جلد بیدار ہونے کی عادت میں مدد کرے گا۔ فریج میں تازہ پھل، سبزیاں اور صحت بخش غذائیں رکھیے تاکہ آپ کو جو کچھ بھی کھائیں وہ صحت کے لئے بہتر ہو۔ اگر گھر میں ہلکی پھلکی ورزش یا یوگا کرنی ہو تو اس کے لیے گھر میں ایک جگہ مخصوص کیجئے۔
اپنے دوست سے مدد لیجئے: اپنے دوست یا شریکِ حیات سے کہیے کہ وہ آپ کی بری عادات پر نظر رکھے یا اچھی عادات کے متعلق زور دیتے رہیں۔ صحت کے لیے مناسب کھانے اور ورزش کی ترغیب دینے کے لیے دوست اور عزیز بہت مدد دے سکتے ہیں اسی طرح کڑی نظر رکھنے والا ایک سخت گیر دوست بھی بری عادتوں پر ٹوک کر آپ کو راہِ راست پر لا سکتا ہے۔
 اچھی عادتوں کا ریکارڈ رکھیے: بری عادتوں سے جان چھڑا کر اچھی عادتوں کو اپنانے کا ایک چارٹ بنائیے اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیے کہ مضرعادات کو ترک کرنے میں کتنی کامیابی ملی ہے۔ اس طرح روزانہ اورہفتہ وارانداز میں آپ کی کارکردگی سامنے آجائے گی اورکمزور پہلوؤں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Tuesday, 26 May 2015

Leave Stern Attitude And Abandon Dry Consistency./ Karakhat Rawaiya Aur Khushq Mizaji Tarq Kar Dain .. .. کرخت رویہ اور خشک مزاجی ترک کر دیں

آپ چاروں طرف سے پریشانیوں میں گھر گئے ہیں‘ کوئی امید کی کرن نظر نہیں آتی۔

دکھوں نے آپ کو ذہنی طور پر ہی نہیں جسمانی طور پر بھی بیمار کر دیا ہے۔ ایسے میں جب کوئی راستہ نظر نہ آئے تو پریشانی دور کرنے کا ایک راستہ ہے۔آپ یہ سوچیے کہ آپ دوسروں کی پریشانیاں کیسے دور کر سکتے ہیں اور دوسروں کو کیسے خوش کرسکتے ہیں۔ بظاہر یہ ناقابل یقین سی بات نظر آتی ہے کہ دوسروں کو خوش کرنے سے آپ کی پریشانیاں دور ہو جائیں لیکن وہ لوگ جو دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ ان کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں، قدرت کی طرف سے ان کو یہ انعام ہوتا ہے کہ ان کی پریشانیاں خود بخود دور ہو جاتی ہیں۔ دوسروں کی خدمت اور مدد کر کے ایک روحانی خوشی ملتی ہے اور جب آپ رات کو سوتے ہیں تو ایک سکون اور اطمینان بخش احساس آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔

ہمارے محلے میں ایک صاحب کی عادت ہے کہ جب بھی ان کو کوئی پریشانی یا مصیبت درپیش آئے تو وہ کھانے کی ایک دیگ،روٹیاں اور کپڑے جوتے وغیرہ خرید کر غریبوں کی بستی کا رخ کرتے ہیںاور پھر وہاں پر یہ اشیاء لوگوں میں بانٹ آتے ہیں۔ان کے مطابق جب وہ یہ کام انجام دے کر واپس آتے ہیں تو ان کی پریشانی اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہو جاتی ہے۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق اگر انسان خوش رہنا چاہتا ہے تو وہ اپنے ارد گرد بسنے والے انسانوں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھے اور انھیں بھی اپنی خوشیوں میں شریک بنائے تو کوئی وجہ نہیں کہ قدرت اسے دکھوں اور پریشانیوں سے دور کر کے خوشیوں سے مالا مال نہ کرے۔ خاص کر وہ نوجوانوں کوبار ہا یہ نصیحت کرتے نظر آتے ہیں کہ اس عادت کو جوانی میں ہی اپنا لو تاکہ یہ تا عمر آپ کو خوشیاں فراہم کرتی رہے۔

اسلام فطرت سے انتہائی قریب مذہب ہے اور زندگی گزارنے کا بہترین لائحہ عمل ہمیں صرف اسلام نے ہی دیا ہے۔ اسلام میں پڑوسی کا خیال رکھنے اور اس کی خیر خواہی کے لیے سخت تاکید کی گئی ہے۔ بیمار کی عیادت انتہائی ثواب ہے۔ صلہ رحمی یعنی اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ قطع رحمی کو سخت گناہ کہا گیا ہے۔ اس سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہم صرف اپنی ذات کے بارے میں نہ سوچیں بلکہ دوسروں کا خیال بھی کریں۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوں۔

مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر ایڈلر ہر روز ایک نیکی کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب ہم دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اپنے متعلق بھول جاتے ہیں۔ پریشانی‘ خوف اور خفقان کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ صرف اپنے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔دوسروں کے متعلق سوچنے سے نہ صرف آپ اپنے متعلق پریشان ہونے سے بچ جائیں گے بلکہ اس سے آپ کو دوست بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ وقت ضائع ہونے والی چیز ہے‘ اس لیے جو نیکی کر سکتے ہوں‘ اسے فی الفور کرنا چاہیے کیونکہ آپ اس راستے سے دوبارہ نہیں گزریں گے۔اگر ہم خوش‘ مطمئن اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک ہی طریقہ ہے۔ دوسروں میں دلچسپی لیں اور ہر روز کوئی ایسا نیک کام کریں جو کسی کے چہرے پر تبسم بکھیر دے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں بظاہر کوئی بھی غیر معمولی خوبی یا صلاحیت نہیں ہوتی پھر بھی لوگ انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔جبکہ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے حسن‘ دولت‘ ذہانت‘ معاشرے میں اعلٰی مقام‘ ہر خوبی سے نوازا ہوتا ہے لیکن لوگ ان سے کتراتے ہیں اوران سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتے۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟اس کی بنیادی وجہ انسان کا مزاج اور عادات ہیں۔

٭کیا آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کا برا مان جاتے ہیں؟

٭آپ کو ہر دم یہ احساس رہتا ہے کہ لوگ آپ کو اہمیت نہیں دیتے؟

٭اگر کوئی آپ پر تنقید کرے تو آپ کو غصہ آ جاتا ہے؟

٭اگر کوئی آپ سے ناراض ہو جائے تو آپ منانے میں پہل کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں؟

٭اگر آپ سے کوئی مذاق کرے تو آپ سنجیدہ ہو جاتے ہیں؟

اگر ان سب باتوں کا جواب اثبات میں ہے تو آپ تنک مزاجی کا شکار ہیں اور آپ کو اپنی شخصیت میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔جو لوگ ذرا ذرا سی بات پر برا مان جاتے ہیں‘ لوگ ان سے دور رہنے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ احساس تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

خوش مزاج بننا مشکل نہیں ہے۔اگر کوئی آپ پر تنقید کرتا ہے تو برا نہ مانیں‘ سوچیں کہ اس کی بات کس حد تک صحیح ہے‘ اگر آپ میں کوئی خامی ہے تو اپنی اصلاح کر لیں۔ اگر اس نے غلط تنقید کی ہے تو یہ سوچ کر بھول جائیں کہ یہ اس کا نقطہ نظر ہے۔کوئی روٹھ جائے تو اسے خود بڑھ کر منا لیں۔ اس میں آپ کی ہتک نہیں ہے بلکہ بڑائی ہے۔کوئی آپ کو نظر انداز کرتا ہے تو خود آگے بڑھ کر بات کریں۔کوئی آپ سے بڑا ہو یا چھوٹا‘ اس کی عزت کریں۔لوگ آپ سے محبت کرنے لگیں گے اور آپ کے دوست بن جائیں گے ،اس لیے کہ ہنستے مسکراتے چہرے‘ خوش گفتار لوگ سب کو بھلے لگتے ہیں۔

ایسے لوگ جن کی پیشانی پر بل ہوں‘ لب نفرت سے سکڑے ہوں اور لہجے میں کرختگی ہو‘ آپ کا ان سے بات کرنے کو جی چاہتا ہے؟ نہیں ناں! تو پھر آج سے طے کر لیں کہ آپ ایک خوش مزاج شخصیت ہوں گے کیونکہ جب آپ کو خود تنگ مزاج اور کرخت لوگ پسند نہیں ہیں تو آپ  دوسروں سے بھی یہ امید نہ رکھیں کہ وہ بلاوجہ آپ کی کرختگی کو برداشت کریں گے۔آپ تجرباتی طور پر ہی سہی کچھ عرصہ کیلئے اپنی طبیعت کو خوش مزاجی کی طرف مائل کریں،ہمیں یقین ہے کہ لوگوں کا بدلتا ہوا مثبت رویہ آپ کو خوش مزاج رہنے پر مجبور کر دے گا اور آپ پر ظاہر ہو گا کہ آس پاس کے لوگوں کے ساتھ ہی آپ کی خوشیاں وابستہ ہیں اور اگر آپ کے ارد گرد کے لوگ خوش وخرم ہیں تو یقیناً آپ بھی ان خوشیوںمیں حصہ دار ہوں گے۔

Friday, 15 May 2015

Ghaflatein...Jin Say Aghahi Zaruri hy.....غفلتیں۔۔۔ جن سے آگاہی ضروری ہے

بہت کم خواتین اس بات سے واقف ہوں گی کہ عام گھریلو آلات ہماری غفلت کے باعث اَن جانے میں ہمیں نقصان پہنچانے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

ہمارا کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ریفریجریٹر، واٹر ڈسپینسر سے  واشنگ مشین تک ہماری صحت کے دشمن بن سکتے ہیں۔ برتن دھونے کا اسفنج، الیکٹرک کیٹل، مائیکرو ویو، سینڈ وچ میکر، نمک، کالی مرچ اور چاٹ مسالے کی برنی وغیرہ جراثیم کی آماج گاہ بن جاتے ہیں۔

واشنگ مشین میں عموماً کپڑے ٹھنڈے پانی سے دھلتے ہیں ایسی صورت میں جراثیم ایک کپڑے سے دوسرے کپڑے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہمارے گھر میں سے کوئی کسی بیماری میں مبتلا ہو اور تب ہی اس کا خدشہ ہو۔ ہمارے گھر کے بہت سے افراد دن بھر مختلف جگہوں پر آتے جاتے ہیں، ایسے میں اس بات کا بہت زیادہ خدشہ ہوتا ہے کہ باہر کے لوگوں سے یہ جراثیم ہمارے اہل خانہ کے کپڑوں میں منتقل ہو جائیں۔ یہی نہیں چھوٹے بچوں کے آلودہ نیکر، پاجامے اور زیر جامہ اس مشین میں دیگر کپڑوں کے ساتھ ٹھنڈے پانی میں دھلتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کو اسی بنا پر جلد کا انفیکشن بھی ہو جاتا ہے، گرمیوں میں پسینوں کے کپڑوں کے باعث بھی یہی خدشات درپیش ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق واشنگ مشین میں دھلائی کے دوران ہیپاٹائٹس اے اور آنتوں میں پرورش پانے والے دیگر وائرس، ملبوسات کے ذریعے ہم میںمنتقل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے احتیاط کرنا ضروری ہے۔

آپ اپنے کپڑے گھر کی واشنگ مشین میں ہی دھوئیں، مگر تولیہ، رومال وغیرہ عام کپڑوں سے علیحدہ دھوئیں یا اسے آخر میں اچھے طریقے سے پانی بدل، بدل کر دھوئیں۔ دیگر ممالک کے برعکس ہمارے یہاں عام طورپر گھروں میں ہیٹر والی مشین کے بہ جائے سادی مشین استعمال ہوتی ہے، لہٰذا کوشش کریں کہ کپڑے گرم پانی سے دھوئیں، پانی میں جراثیم کُش لیکوڈ ڈیٹول، بلیچ وغیرہ کا استعمال کریں اور مخصوص کپڑوں خاص طورپر جراثیم کش لیکوڈ شامل کریں۔ کپڑے دھونے کے بعد انہیں دھوپ میں پھیلائیں اور تیز گرم استری کریں۔

اکثر لوگ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل اور لینڈ لائن فون استعمال کرنے کے دوران کھاتے پیتے بھی رہتے ہیں۔ انہیں خیال نہیں ہوتا کہ ان آلات کے صرف کی بورڈ اور بٹنوں کے درمیان کتنے جراثیم موجود ہیں۔ اکثر کمپیوٹر کے کی بورڈ کی صرف بالائی سطح سے ہی صفائی کی جاتی ہے، جب کہ اس کے ریخوں میں دھول مٹی کی تہہ بچھی ہوتی ہے، جس میں جراثیم پلتیرہتے ہیں۔ اسی طرح موبائل وغیرہ بھی ہم سارا دن استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کبھی ہم مسافر بسوں میں ہوتے ہیں، تو کبھی دفتری امور میں مصروف۔۔۔ ایسے میں موبائل فون بھی براہ راست جراثیم زدہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ کے استعمال کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھو لیے جائیں۔

ساتھ ہی کمپیوٹر کے کی بورڈ کی صفائی کے لیے جراثیم کش محلول میں ایک باریک روئیں والا برش بھگو کر استعمال کریں۔ اس کے لیے اگر میک اپ کٹ کا پرانا برش استعمال کر لیں۔ اس کے علاوہ کاٹن، ململ کے کپڑے سے روزانہ استعمال سے پہلے نرمی سے کی بورڈ صاف کریں۔ یہ اس لیے زیادہ بہتر اس لیے ہے کہ روئیں اندر تک جا کر اچھی طرح صفائی کریں گے۔ اسی طرح  الیکٹرک کیٹل، مائیکروویو، سینڈوچ میکر، نمک، کالی مرچ اور چاٹ مسالے کی برنی بھی بہت سی خواتین طویل عرصے تک  صاف نہیں کرتیں، جس بنا پر وہ ہمارے لیے مضر صحت بن جاتی ہیں۔ اس لیے ان تمام چیزوں کی صفائی ستھرائی رکھنا بے حد ضروری ہے، تاکہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کو برقرار رکھا جا سکے۔

A Few Things That Can Make Lasting Marriage Relationship ... شادی کے رشتے کو پائیدار بنانے والی چند باتیں

شادی ایک ایسا بندھن ہے جو زندگی بھر کے لیے باندھا جاتا ہے لیکن اس جدید دور میں یہ رشتہ دیگر رشتوں کی طرح اپنی مضبوطی اور پائیداری کھوتا جا رہا ہے اور معاشرے میں شادی جلد ٹوٹنے اور طلاق کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجوہات عام طور پر آپس میں عدم تعاون، فریب، شک اور معاملات کو ایک دوسرے سے شیئر نہ کرنا ہیں تاہم چند ایسی باتیں ہیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو یہ رشتہ پائیدار ہوسکتا ہے۔
عہدوپیمان:  رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد اس کو قائم رکھنے کے لئے عہد وپیمان کرنا اور اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اس رشتے کی پائیداری میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگرچہ عہد و پیمان کو کرنے اور اسے نبھانے میں کچھ وقت لگتا ہے تاہم جب ایک دفعہ کر لیا جائے تو اسے پورا کرنا شادی کی کامیابی کا ضامن بن جاتا ہے۔
محبت:  شادی والدین کی خواہش کے مطابق ہو یا لو میرج، دونوں ہی صورت میں محبت کا جذبہ اس رشتے کو قائم رکھنے کی مضبوط ترین کڑی ہے کیوں کہ اگر محبت اس رشتے سے نکال دی جائے تو یہ رشتہ مجبوری بن جاتا ہے۔
 
احترام:  میاں بیوی کے رشتے میں ایک دوسرے کا احترام ہی اسےکامیاب بناتا ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر احترام نہ ہوتو آپس میں محبت بھی نہیں رہتی۔
صبر وتحمل: انسانوں کی فطرت ایک دوسرے سے عام طور پر مختلف ہوتی ہے اس لیے جب دو مختلف طبعیت رکھنے والے افراد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں تو آپس میں اختلافات بھی ممکن ہیں تو ایسی صورت صبراور برداشت ہی تعلقات میں خوشگوار تبدیلی لاتا ہے اور آگے کی جانب بڑھتا ہے۔
معاف کردینا: جس طرح والدین غلطیوں پر اپنے بچوں کو معاف کردیتے ہیں اسی طرح کا طرز عمل میاں بیوی بھی ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کر کے ہی ایک کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزار سکتے ہیں۔
ایماندرای اور اعتماد:  میاں بیوی کا ایک دوسرے اعتماد اور معاملات میں ایمان داری ہی دراصل اس رشتے کو شفاف اور مضبوط بناتی ہے۔ اگر دونوں کچھ چیزیں ایک دوسرے سے خفیہ رکھیں گے تو آپس میں اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکے گی اور شک کا عنصر دونوں کو ایک دوسرے سے دور کردے گا۔
بات چیت کا عمل: ہر معاملے پر ایک دوسرے سے گفتگو کریں اور کسی اہم مسئلے پر ایک دوسرے کا نکتہ ضرور سنیں  اورکوشش کریں کہ کسی بھی ایشو پر گفتگو کا راستہ کھلا رکھیں۔
ایثاراور بے غرضی:  شادی کے بعد میاں بیوی ایک ایسے رشتے میں منسلک ہوجاتے ہیں جہاں ایک دوسرے کا خیال رکھنا لازمی ہوجاتا ہے جس میں ایک کا دوسرے کے لیے ایثار کا جذبہ اس رشتے کو طاقت اور پائیداری عطا کرتا ہے۔ اپنی ضرورت پر ساتھی کی ضرورت کو ترجیح دینا اور اسے پہلے موقع دینا ہی درحقیقت اس رشتے کی دلکشی اور طاقت ہے جسے بنیاد بنا کر اسے خوشی کے رنگوں سے مزین کیا جاسکتا ہے۔