Wednesday, 24 June 2015

My Mother ..... زمیں پر خدا کی محبت کا روپ ’’میری ماں‘‘

ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے۔ ایک ایسا سمندر جسکی گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا انسانی عقل سے بالاتر ہے۔ ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔
ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کو مثال بناتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جسکی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔ ماں وہ ہے جسکو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔
’’جب میں دنیا کے ہنگاموں سے تھک جاتی ہوں، اپنے اندر کے شور سے ڈر جاتی ہوں تو پھر میں اللہ کے آگے جھک جاتی ہوں یا پھر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے جی بھر کے رو لیتی ہوں‘‘، یہ فرمان تھا حضرت رابعہ بصری کا۔ ماں وہ ہستی ہے جسکا نعم البدل نہیں، ماں ایک گھنے درخت کی مانند ہے جو مصائب کی تپتی تیز دھوپ میں اپنے تمام بچوں کو اپنی مامتا کے ٹھنڈے سائے تلے چھپا کے رکھتی ہے جیسے ایک مرغی مصیبت کے وقت اپنے تمام چوزوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے یہ سوچ کرکے اسے چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر اسکے بچے محفوظ رہیں۔ ایسی محبت صرف ایک ماں ہی دے سکتی ہے۔ ساری عمر بھی اس کے نام کی جائے تو بھی حق ادا نہ ہو، اسکی ایک رات کا بدلہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔
جہاں ماں کا ذکر آگیا سمجھ لینا چاہیے کہ ادب کا مقام آگیا۔ اللہ نے ماں کی ہستی کو یہ جان کر بنایا ہوگا کہ جب ایک ہارا ہوا انسان ناکامیوں کا سامنا کرکے تھک جائے تو ماں کی آغوش میں پناہ لے اور اپنے سارے رنج و الم، دُکھ اور غم ماں کو کہہ سنائے اور جب ماں پیار سے اسکی پیشانی چومے تو اس کی تمام پریشانیاں اور اندیشے ختم ہوجائیں۔ ماں اپنے اندر شفقت و رحمت کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے جیسے ہی اپنی اولاد کو پریشانی میں مبتلا دیکھتی ہے ماں کا دل تڑپ اٹھتا ہے اسکے اندر موجود محبت کے سمندر کی لہریں ٹھاٹھیں مارنے لگتی ہیں اور تمام دکھ بہا کر دور بہت دور لے جاتی ہیں جس سے اولاد میں نئے سرے سے جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔
بوعلی سینا نے کہا اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلی مثال میں نے تب دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند ہی نہیں ہیں۔ جب بچہ ماں کے پاس ہوتا ہے تو ہر غم اس سے دور ہوتا ہے۔ ماں خود بھوکا رہ لے گی مگر اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گی۔ سرد راتوں میں جب اسکا بچہ بستر گیلا کردیتا ہے وہ ساری رات خود تو گیلی جگہ پر سوجائے گی لیکن اپنے بچے کو خشک جگہ پر سلائے گی۔ بچہ اگر گھر دیر سے پہنچے تو اسکی حالت ریت پر پڑی مچھلی کی مانند ہوجاتی ہے۔ ماں تو وہ ہستی ہے جسکا بچہ مرا ہوا بھی پیدا ہوجائے تو وہ اس غم سے باہر نہیں آپاتی۔ لیکن یہی بچہ ناجانے کب بڑا ہوجاتا ہے اسکی رگوں میں خون کی تیزی ماں کے دل کو عجب تقویت بخشتی ہے۔ پھر ایک دن آتا ہے جب اس بچے کو دنیا سے محبت ہوجاتی ہے اسے ماں کی روک ٹوک چبھنے لگتی ہے اور وہ ماں کی نصیحتوں سے بیزار آجاتا ہے۔
حضرت موسی علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالی سے پوچھا کہ جنت میں میرے ساتھ کون ہوگا؟ ارشاد ہوا فلاں قصاب ہوگا۔ آپ کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے۔ وہاں دیکھا توایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا۔ اپنا کاروبار ختم کرکے اس نے گوشت کا ایک ٹکڑا کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اس قصائی کے گھر کے بارے میں مزید جاننے کیلئے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔ گھر پہنچ کر قصائی نے گوشت کو پکایا پھر روٹی پکا کر اس کے ٹکڑے شوربے میں نرم کئے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں ایک نہایت کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی۔
قصاب نے بمشکل اسے سہارا دے کر اٹھایا اور ایک لقمہ اس کے منہ میں دیتا رہا۔ جب اس نے کھانا تمام کیا تو بڑھیا کا منہ صاف کیا۔ بڑھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر قصاب مسکرایا اور بڑھیا کو واپس لٹٓ کر باہر آگیا۔ حضرت موسی علیہ السلام جو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرادیا؟ قصاب بولا ارے اجنبی! یہ عورت میری ماں ہے۔ گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں یہ روز خوش ہوکر مجھے دعا دیتی ہے کہ اللہ تجھے جنت میں حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ رکھے گا جس پر میں مسکرا دیتا ہوں کہ بھلا میں کہاں اور موسی کلیم اللہ کہاں!
ماں سے محبت کے اظہار کیلئے کسی ایک دن کو مختص نہیں کیا جاسکتا۔ سال میں ایک دن منالینے سے بات نہیں بنتی بلکہ اسلام میں تو ہر دن ہر لمحہ مدرز ڈے ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں حیات ہیں۔ مگر افسوس مادیت ذدہ معاشرے نے خاندانی نظام کو بُری طرح متاثر کیا ہے جس سے والدین کی عزت رسمی ہوکر رہ گئی ہے۔ وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جت اور باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے الہی سے دامن چھڑاتا نظر آتا ہے۔ ماں باپ سے بدکلامی کرنے کو خدا نے سخت نا پسند کیا ہے یہاں تک کہ لفظ اف کو بھی خدا نے ماں باپ کی شان کے خلاف قراردیا ہے کیونکہ اس لفظ سے مزاج کے خراب ہونے کی بو آتی ہے۔

Wednesday, 10 June 2015

Easy Ways To Adopt Good Habits.....اچھی عادتیں اپنانے کے آسان طریقے

اچھی عادات اختیار کرنے سے صحت، روزگار اور بلکہ زندگی کے ہر پہلو پرمثبت اثر پڑتا ہے جب کہ ماہرین کے نزدیک اچھی عادات اس کے خوش طبیعت ہونے کی بھی نشانی ہے۔
اپنے معمولات میں اچھی عادات شامل کیجئے: اگرآپ رات دیرتک جاگتے ہیں لیکن صبح سویرے اُٹھ کر دوڑ لگانے کے خواہشمند ہیں تو یہ آپ کے لئے صبح سویرے اٹھنا انتہائی مشکل ہوگا تو اپنی روز مرہ زندگی میں صبح کی چہل قدمی جیسی اچھی عادت کو شامل کرنے کے لیے اس عادت کو رات سے ہی اپنانا شروع کریں جس کے لیے آپ شام کے اوقات میں چہل قدمی شروع کرکے رات کو وقت پر سو سکتے ہیں جس کے بعد آپ کے لیے صبح جلدی اٹھنا بھی مشکل نہیں ہوگا اور آپ اس طرح اپنے روز مرہ کے معمولات میں صبح کی چہل قدمی جیسی صحت مند عادت شامل کرسکتے ہیں۔
بری عادات کو اچھی عادات سے بدلیے: اگر آپ میٹھا کھانے کے شوق میں گرفتار ہیں اور اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو آئسکریم اور مٹھائیوں کو پھلوں اور ان کے رس سے بدل دیجئے اس طرح مٹھاس کی طلب بھی پوری ہوجائے گی اور اس کا کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح اپنی دیگر ضروریات پر بھی غور کیجئے کیونکہ طلب اور ضرورت سے ہی عادتیں فروغ پاتی ہیں اور ایسی اچھی عادتیں اپنائیے جو بری عادتوں کی جگہ لے سکیں۔
پہلے چھوٹے قدم اٹھائیے: بری عادات کو بدلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے مثبت قدم اُٹھایئے اگر آپ جوش میں آکر کہتے ہیں کہ میں کل صبح 5 بجے اُٹھوں گا تو شاید یہ ممکن نہ ہو لیکن صبح 7 بجے اُٹھنا شاید ممکن ہوگا۔ اس طرح ایک ایک قدم جماکر اٹھائیے اور بری عادات کو ختم کرتے رہیں اس کے بعد  ایک وقت آئے گا کہ طبیعت پر گراں ہوئے بغیر ہی بہترین عادات آپ میں جمع ہوتی جائیں گی۔
اچھی عادتوں میں اپنے گھر کی مدد حاصل کیجئے: آپ اپنے گھر میں بہت زیادہ اور بہت اہم وقت صرف کرتے ہیں اور ضروری ہے کہ اچھی عادات اپنانے کے لیے اپنے مکان یا فلیٹ میں بھی کچھ تبدیلیاں کی جائیں اس کے لیے کھڑکیوں کو اس طرح رکھیے کہ سورج کی روشنی صبح کو آپ کو بیدار کرے اور اس طرح آپ کا گھر آپ کی صبح جلد بیدار ہونے کی عادت میں مدد کرے گا۔ فریج میں تازہ پھل، سبزیاں اور صحت بخش غذائیں رکھیے تاکہ آپ کو جو کچھ بھی کھائیں وہ صحت کے لئے بہتر ہو۔ اگر گھر میں ہلکی پھلکی ورزش یا یوگا کرنی ہو تو اس کے لیے گھر میں ایک جگہ مخصوص کیجئے۔
اپنے دوست سے مدد لیجئے: اپنے دوست یا شریکِ حیات سے کہیے کہ وہ آپ کی بری عادات پر نظر رکھے یا اچھی عادات کے متعلق زور دیتے رہیں۔ صحت کے لیے مناسب کھانے اور ورزش کی ترغیب دینے کے لیے دوست اور عزیز بہت مدد دے سکتے ہیں اسی طرح کڑی نظر رکھنے والا ایک سخت گیر دوست بھی بری عادتوں پر ٹوک کر آپ کو راہِ راست پر لا سکتا ہے۔
 اچھی عادتوں کا ریکارڈ رکھیے: بری عادتوں سے جان چھڑا کر اچھی عادتوں کو اپنانے کا ایک چارٹ بنائیے اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیے کہ مضرعادات کو ترک کرنے میں کتنی کامیابی ملی ہے۔ اس طرح روزانہ اورہفتہ وارانداز میں آپ کی کارکردگی سامنے آجائے گی اورکمزور پہلوؤں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔